Home / فیشن / Health & Fitness / کیا آپ بھی ہیں شکار ڈپریشن کا ؟ 

کیا آپ بھی ہیں شکار ڈپریشن کا ؟ 

کیا آپ بھی ہیں شکار ڈپریشن کا ؟ 

بہت سے لوگ آج بھی اپنی ڈیپریشن کا علاج نہیں کرواتے کیونکہ وہ خود نہیں جانتے کہ وہ ڈیپریشن کا شکار ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے ڈیپریشن ایک معمہ ہے‘ ایک بجھارت ہے‘ ایک پہیلی ہے۔ ایک وہ دور تھا جب ماہرینِ نفسیات مالیخولیا (Melancholia) کی تشخیص کرتے تھے لیکن اب مالیخولیا کی بجائے ڈیپریشن کی تشخیص کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتے ہیں کہ ڈیپریشن کیا ہے؟ اس کے عوارض کیا ہیں؟ اس کی اقسام اور وجوہات کیا ہیں؟ اس کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟بہت سے لوگ جب چند منٹوں یا گھنٹوں کے لیے اداس ہو جاتے ہیں تو کہتے ہیں ’مجھے ڈیپریشن ہو گیا ہے؟‘ یہ اس لفظ کا عمومی استعمال ہے۔ لیکن جب ڈاکٹر یا ماہرینِ نفسیات ڈیپریشن کا نام لیتے ہیں تو ان کے ذہن میں ڈیپریشن کا خاص تصور ابھرتا ہے۔ ڈیپریشن کی کئی قسمیں ہیں۔

ڈیپریشن کی پہلی قسم غم کا رد عمل (Grief reaction) کہلاتی ہے جو کسی عزیز کی موت واقع ہونے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ جب کسی شخص کا ماں یا باپ‘ دوست یا قریبی رشتہ دار فوت ہو جاتا ہے تو وہ اداس ہو جاتا ہے۔ اکثر لوگ ایسی ڈیپریشن سے عزیزوں کی ہمدردی‘ دوستی اور پیار سے باہر نکل آتے ہیں اور کچھ عرصے کے بعد روزمرہ کی زندگی میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ وہ لوگ جن کا اپنے فوت ہونے والے رشتہ دار سے محبت اور نفرت (Love/Hate relationship) کا پیچیدہ رشتہ ہو ان کی ڈیپریشن گنجلک اور طویل ہو جاتی ہے اور انہیں کسی ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ وہ اپنے نفسیاتی تضاد کا حل تلاش کر سکیں۔ میں ایسے کئی لوگوں سے ملا ہوں جو اپنے عزیز کی موت کے برسوں بعد بھی اس کا سوگ منا رہے تھے۔یوں لگتا تھا جیسے ان کی زندگی پر ایک گہرا کالا بادل چھایا ہوا ہے۔ ایسے لوگوں کو ماہرِ نفسیات سے مشورہ کرنا چاہیے۔

ڈیپریشن کی دوسری قسم ڈستھائیميا (Dysthymia) کہلاتی ہے۔ ایسی ڈیپریشن کے بہت سے مریض یا تو ایسی ملازمت کر رہے ہوتے ہیں جہاں وہ خوش نہیں ہوتے یا ایسی شادی کا حصہ ہوتے ہیں جہاں وہ ناخوش ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ ایک تکلیف دہ شادی کے باوجود جذباتی‘ مذہبی یا سماجی وجوہات کی وجہ سے طلاق نہیں لے سکتے۔ جب انسان کسی غیرصحتمند ملازمت یا شادی کا حصہ بنا رہے تو آہستہ آہستہ وہ ڈیپریشن کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے اور ایک دن پانی سر سے گزر جاتا ہے اور انسان کسی نفسیاتی بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔ بہت سی خواتین اس لیے ڈیپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں کہ وہ اپنا خیال رکھنے کی بجائے دوسروں کا زیادہ خیال رکھتی ہیں۔

ڈیپریشن کی تیسری قسم پہلی دو قسموں سے زیادہ سنجیدہ اور سنگین ہوتی ہے۔ ایسی ڈیپریشن ایک ذہنی بیماری کا حصہ ہوتی ہے جسے ہم مینک ڈپریشن یا بائی پولر ڈس آرڈر کہتے ہیں۔ ایسی ڈیپریشن کے دوران مریض کی ،بھوک مٹ جاتی ہے، نیند اڑ جاتی ہے، وزن کم ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ ذہن میں خود کشی کے خیالات آنے لگتے ہیں۔

ڈیپریشن کی بیماری کی وجوہات میں تین قسم کے عوامل اہم ہیں

حیاتیاتی وجوہات (Biological Factors): بعض مریضوں کے لیے ڈیپریشن ایک موروثی مرض ہے کیونکہ ان کے والدین ڈیپریشن کا شکار تھے۔ جب کسی کے رشتہ دار ڈیپریشن کا شکار ہوں تو ایسے شخص کے ڈیپریشن کا شکار ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ان کے دماغ وہ کیمیائی مادے(سیروٹونن اور ڈوپامین) پیدا نہیں کرتے جو خوش رہنے کے لیے ضروری ہیں۔

نفسیاتی وجوہات (Psychological Factors): بعض لوگوں کی شخصیت ایسی ہوتی ہے کہ وہ مثالیت پسندی یا آئیڈیلزم کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کی اپنی ذات اور دوسروں سے توقعات حقیقت پسندانہ نہیں ہوتیں اس لیے وہ اکثر ناامید اور مایوس ہو جاتے ہیں اور ڈیپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں

سماجی وجوہات (Social Factors): بعض مہاجرین جب ایک ثقافت سے دوسری ثقافت میں ہجرت کرتے ہیں تو اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو اتنا یاد کرتے ہیں کہ نوسٹلجیا کا شکار ہو جاتے ہیں۔

چونکہ ڈیپریشن میں حیاتیاتی‘ نفسیاتی اور سماجی عوامل اہم ہیں اس لیے اس کے علاج میں بھی ان عوامل کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اسی لیے ڈیپریشن کے علاج میں ادویہ‘ تعلیم اور تھیرپی استعمال ہوتے ہیں۔ تھیرپی میں مریض ایسے نفسیاتی طریقے سیکھتے ہیں جن سے وہ اپنے نفسیاتی مسائل حل کر سکیں اور ایک صحتمند زندگی گزار سکیں۔ بعض خاندانوں اور ممالک میں نفسیاتی بیماریوں اور ڈیپریشن کا علاج معیوب سمجھا جاتا ہے۔ بعض لوگ قبروں پر دعائیں مانگتے ہیں یا گنڈا تعویز سے علاج کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ میری نگاہ میں جیسے ہم جسمانی بیماری کے لیے میڈیکل ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اسی طرح ہمیں نفسیاتی مسائل اور ذہنی بیماریوں کے لیے ایک ماہرِ نفسیات کے پاس جانا چاہیے تا کہ ہم خوش و خرم اور پرسکون زندگی گزار سکیں۔ اگر آپ ڈیپریشن کا شکار ہیں تو آپ کو کسی ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ڈیپریشن ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جس کا اکیسویں صدی میں تعلیم‘ ادویہ اور سائیکوتھیریپی سے کامیاب علاج ممکن ہے۔ ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ذہنی طور پر صحتمند زندگی گزاریں اور خدمتِ خلق کریں۔ خود بھی خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔۔ہم سب کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگر ہم خود خوش نہیں ہوں گے تو دوسروں کو کیسے خوش رکھ سکیں۔

سوشل میڈیا: ڈپریشن میں کمی یا اضافے کا باعث؟
کسی بھی مشکل کا اظہار فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے آپ کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق ڈپریشن کے مریضوں کی مانیں تو ان کے بقول اپنے احساسات کا سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اظہار کرنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ جس کے ساتھ بات کر رہے ہیں وہ کس حد تک آپ کو سمجھ پا رہے ہیں اور اُن کا ردِعمل کیا ہے۔ یہ بہت اہم ہے۔’ڈپریشن ایک میڈیکل کنڈیشن ہے جس کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے اور اس کا موثر علاج موجود ہے۔’
وہ کہتے ہیں کہ آپ کو یہ بھی سننے کو مل سکتا ہے: یہ تو کچھ بھی نہیں سب کو ایسے ہی لگتا ہے نماز پڑھو اپنا عقیدہ ٹھیک کرو سب ٹھیک ہو جائے گایا یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں اس کے علاج کے لیے دی جانی والی دوائیاں نشہ آور ہیں اور ان دوائیوں کو ساری زندگی استعمال کرنا پڑتا ہے۔یہ بھی سننے کو مل سکتا ہے کہ آپ ناکارہ ہو گئے ہیں اور ڈپریشن کا علاج صرف خود کُشی ہے۔ ڈاکٹر مراد موسیٰ خان کہتے ہیں کہ جب ایسی منفی رائے سننے کو ملتی ہے تو لوگ بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ انھوں نے کہا ’ڈپریشن ایک میڈیکل کنڈیشن ہے جس کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے اور اس کا موثر علاج موجود ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسی منفی رائے کے حامل افراد کو یہ بتانا ضروری ہے کہ اگر کسی کی یہ کیفیت ہو جائے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ جان بوجھ کر ایسا کر رہا ہے اور نفسیاتی معالج سے مشورہ لینے کا مطلب بھی یہ نہیں کے کوئی پاگل ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’تاہم اگر دوسرے افراد آپ کی بات سن رہے ہیں اور مددگار ثابت ہو رہے ہیں تو اس صورت میں سوشل میڈیا پر شئیر کرنا سود مند ہو گا۔‘ ڈاکٹر علی ہاشمی کے مطابق سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کا فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ ان لوگوں سے بھی تعلق جوڑ سکتے ہیں جن کو آپ جانتے تک نہیں۔ ان کے مطابق ’ایسا کرنے سے آپ اپنے احساسات اور خیالات کا تبادلہ کرسکتے ہیں اور نئے رابطے بنا سکتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتا۔‘ انھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ دوسری طرف اگر سوشل میڈیا آپ کی ذاتی زندگی پر حاوی ہو جائے اور آپ حقیقی زندگی میں کسی خاندان کے فرد اور دوست سے مل نہیں رہے اور نہ ہی کچھ شئیر کر رہے ہیں تو یہ ڈپریشن میں اضافے کا باعث ہو سکتا ہے۔ (ایجنسیاں)

About Sa sagar

Check Also

نیوزی لینڈ: مساجد میں نمازیوں پر دہشت گردانہ حملہ کرنے والے کی بندوق پردرج عبارات کی کیا ہے تاریخ ؟

نیوزی لینڈ: مساجد میں نمازیوں پر دہشت گردانہ حملہ کرنے والے کی بندوق پردرج عبارات …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے