Home / Uncategorized / نیوزی لینڈ دہشت گردانہ حملہ کو لیکر وزیراعظم نریندر مودی اور ہندوستانی میڈیا کا شرمناک رویہ

نیوزی لینڈ دہشت گردانہ حملہ کو لیکر وزیراعظم نریندر مودی اور ہندوستانی میڈیا کا شرمناک رویہ

نیوزی لینڈ دہشت گردانہ حملہ کو لیکر وزیراعظم نریندر مودی اور ہندوستانی میڈیا کا شرمناک رویہ

نئی دہلی: نیوزی لینڈ میں جمعہ کے روز دو مساجد میں دہشت گردوں کے وحشیانہ حملے میں 50 نمازیوں کی شہادت کے واقعے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دنیا بھر میں مذمت کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس معاملے میں ہندوستانی میڈیا اور یہاں کے وزیر اعظم نریندر مودی کا رویہ سب سے شرمناک ہے ۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے اب تک اس واقعہ پراپنی جانب سے براہ راست اظہار افسوس تک نہیں کیاہے دوسری طرف ہندوستانی میڈیا اتنے بڑے دہشت گردانہ حملہ کو دہشت گردانہ حملہ کے بجائے فائرنگ سے تعبیر کررہی ہے اور اسے خصوصی کوریج دینے کے بجائے حسب معمول بین الاقوامی خبر کے طور پر دیکھ رہی ہے ۔ نیوز ی لینڈ کی دومسجد وں پر سفاک دہشت گردوں کے حملے میں اب تک 50 افراد کے موت کی تصدیق ہوچکی ہے جس میں یہ کہاجارہاہے کہ 8 نمازی ہندوستان کے بھی تھے لیکن اس کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے براہ راست کوئی بیان نہیں آیاہے ۔انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر بھی کسی طرح کی تعزیت نہیں کی ہے ۔ نہ ہی پی ایم او کی طرف سے کوئی بیان آیاہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے اس رویے پر ٹوئٹر صارفین ان سے نہ صرف سوال کررہے ہیں بلکہ اس رویہ پر حیرت کا اظہار کررہے ہیں ۔آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ نیوز ی لینڈ میں سفاکہ دہشت گردانہ حملہ کو 8گھنٹہ گزرجانے کے باوجود پی ایم مودی کا کوئی بیان سامنے نہیں آیاہے جس میں مختلف ممالک کے 49 شہریوں کی موت ہوگئی ہے ۔ سوشل میڈیا پر اور بھی کئی لوگوں نے اس طرح کا سوال اٹھایا ہے ۔ ہندوستانی وزرات خارجہ نے اس واقعہ کو دہشت گردانہ حملہ بتاتے ہوئے نیوزی لینڈ سے اظہار تعزیت کی اور عبادت پر ہوئے دہشت گردانہ حملہ کی مذمت کی ہے ۔ وزرات خارجہ کی طرف سے جاری خط میں وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے تعزیت کا اظہار کیاگیاہے لیکن پی ایم او کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیاہے۔(ایجنسیاں)

About Sa sagar

Check Also

مولانا محمد یعقوب سہارنپوری کا طویل علالت کے بعد انتقال

مولانا محمد یعقوب سہارنپوری کا طویل علالت کے بعد انتقال نئی دہلی تبلیغی جماعت کی عالمی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے